اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جدہ میں ملک عبدالعزیز ایئرپورٹ پر یمنی فوج اور رضاکار فورس کے میزائلی حملے کی وجہ سے سعودی عرب بوکھلا گیا ہے اور اسی وجہ سے وہ یمن کی مزاحمت و استقامت کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے اپنی کمزوری کو چھپانا چاہتا ہے-
یمن کی وزارت دفاع نے جمعرات کو جدہ کے ملک عبدالعزیز ایئرپورٹ پر برکان یک بیلیسٹک میزائل فائر کئے جانے کی خبر دی- یمنی فوج کے ترجمان غالب لقمان نے اعلان کیا ہے کہ جدہ میں سعودی ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے آپریشن میں برکان یک میزائل استعمال کیا گیا تھا-
لیکن سعودی عرب کے خبری و صحافتی حلقوں نے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے یمن کی مزاحمت و استقامت پر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا الزام لگانے کے لئے پروپیگنڈہ مہم شروع کردی اور دعوی کیا کہ یمنی انقلابیوں نے شمالی شہر صعدہ سے ایک بیلیسٹک میزائل مقدس شہر مکہ کی جانب فائر کیا ہے-
یہ پروپیگنڈہ مہم ایسے عالم میں سعودی میڈیا کے ایجنڈے کا حصہ بنی ہے کہ یمن کی فوج اور رضاکار فورس ، سعودی اتحاد کے جارحانہ حملوں کے جواب میں صرف مختلف سعودی شہروں میں واقع اس کے فوجی مراکز کو نشانہ بناتی رہی ہے- سعودی عرب ، یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے جدہ کے ملک عبدالعزیز ایئر پورٹ پر میزائل فائر کئے جانے کا سہارا لے کریمنی انقلابیوں پر مقدس اسلامی مقامات کی جانب میزائل مارنے کا الزام لگا رہی ہے جو کہ پوری طرح مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے- کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب ، یمن میں اپنی پے در پے شکستوں اور ناکامیوں کی تلافی کے لئے ماحول تیار کرنے کی غرض سے اپنے سیاسی ہدف کو آگے بڑھانے کے لئے اسلامی مقدس مقامات کا سہارا لے رہا ہے- گذشتہ تقریبا چھے سو دنوں سے سعودی اتحاد ، یمن کے خلاف مختلف جرائم کے ارتکاب اور مختلف قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے باوجود فوجی اور سیاسی میدان میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے-
یمن کے دیندار اورغیرت دار عوام پر الزام لگانے کی غرض سے سعودی عرب کا بچکانہ کھیل ایسے عالم میں جاری ہے کہ یمنی عوام اس سال بھی آل سعود کی فرقہ وارانہ روش کی بھینٹ چڑھے اور بیت اللہ کی زیارت سے محروم رہے- سعودی عرب کی تفرقہ ڈالنے کی پالیسی ، عالم اسلام کے دشمنوں خاص طور سے اسرائیل و امریکہ کو فائدہ پہنچانے کے لئے اختیار کی گئی ہے- سعودی عرب ، ہر ممکن طریقے سے یمن کے مسلمان و مجاہد عوام کی اپنے ملک کی خود مختاری کے لئے کی جانے والی جد و جہد کو داغدار کرنا چاہتا ہے کیونکہ آل سعود نے اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے سعودی عوام اور مسلم امہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے عالم اسلام کے مشترکہ دشمن یعنی صیہونی حکومت سے آشکارا تعلقات برقرار کر رکھے ہیں- یمن پر گذشتہ انیس مہینوں سے جاری حملوں میں سعودی اتحاد کی بے بسی سعودی عرب کے اشتعال انگیز اقدامات اور پالیسیوں میں پوری طرح نمایاں ہے اور جدہ میں ملک عبدالعزیز ایئرپورٹ پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائلی حملے کے بعد اس حکومت کی پروپیگنڈہ مہم سے پتہ چلتا ہے کہ آل سعود یمن میں اپنی ہی تیار کردہ دلدل میں پھنس گئی ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲